BlogHakayatUrdu Corner

hazrat umar farooq R.A ka waqia

hazrat umar farooq R.A ka waqia hazrat umar farooq R.A ka waqiahazrat umar farooq R.A ka waqia

شہزادوں کی عید

امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ خلافت کا کام کر کے اپنے گھر آئے۔ اور آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے۔ کہ بیوی نے غمگین لیجے میں کہا۔ امیر المومنین اگلے ہفتے عید آ رہی ہے۔ بچہ نئی پو شاک کے لئے بہت بے چین ہے۔ ابھی روتے ہوے سوئے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے سر جھکا کرفرمایا تمھیں تو معلوم ہے کہ مجھے تو صرف سو درہم ماہوار ملتے ہیں۔ جس میں گھر کا خرچہ بڑی مشکل سے پورا ہوتا ہے۔ ،، بیوی وہ تو میں بھی جانتی ہوں۔ آپ بیت المال سے قرض لے لیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا بیت المال تو صرف غریبوں یتیموں فقیروں کا حق ہے۔ میں تو صرف اس کا امین ہوں۔ بیوی بولی بے شک میرے سرتاج آپ کی بات سچ ہے۔ مگر بچہ تو ناسمجھ ہے۔ اس کے آنسو نہیں دیکھے جاتے۔

حضرت عمربن عبدالعزیز بولے۔ اگر تمھارے پاس کوئی چیز ہے اسے فروخت کر دو۔ بچے کی خوشی پوری ہو جاے گی۔ بیوی بولی امیر المومنین میرے تمام زیورات آپ نے بیت المال میں جمع کرادیئے ہیں۔ بلکہ میرا قیمتی ہاربھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا۔ آپ نے وہ بھی جمع کروادیا۔ اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ امیر المومنین نے سر جھکالیا بڑی دیر تک سوچتے اپنے ماضی میں جھانکنے لگے۔ وہ بچپن جوانی خوش پوشی نفاست جولباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کا موقع نہ ملا۔ جس راستے سے گزرتے خوشبووں سے معطر ہو جا تا۔  یہی سوچتے سوچتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

بیوی نے اپنے ہر دل عزیز شو ہر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو کہنے گی۔ مجھے معاف کر دیں۔ میری وجہ سے آپ پریشان ہو گئے۔ فر مایا کوئی بات نہیں۔ پھر حضرت عمر بن عبد العزیز نے بیت المال کے نگران کے لئے ایک خط لکھ کر اپنے ملازم کو دیا۔ اور فرمایا ابھی جاؤ یہ خط نگران کو دے کر آؤ ۔اس میں لکھا تھا مجھے ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی بھیج دو۔ ملازم نے جوابی خط لا کر امیر المومنین کو دیا۔ جس میں لکھا تھا اے خلیفۃ المسلمین آپ کے حکم کی تعمیل سر آنکھوں پر۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ جب یہ آپ کو معلوم نہیں۔ تو پھر غریبوں کے مال کی حق تلفی کیوں پیشگی اپنی گردن پر رکھتے ہیں۔ آپ نے جواب پڑھا تو رونے لگے فرمایا نگران نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔

اگلے ہفتے دمشق کے لوگوں نے دیکھا۔ امرا  کے بچے نئے حسین کپڑے پہن کر عیدگاہ جارہے تھے۔ مگر امیر المومنین کے بچے پرانے دھلے ہوئے کپڑوں میں ملبوس۔ اپنے والد کا ہاتھ پکڑے عید گاہ جارہے تھے۔ بچوں کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے تھے۔ کیونکہ آج ان کی نظر فانی دنیا کی ترقی خوشی نہیں بلکہ جنت کی ابدی تمنا کے احساس نے انہیں سرشار کر دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button