aqwal e zareenBlogHakayatUrdu Corner

حضرت علی ؓ نے فرمایا: تنگدستی کو دور کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ

نعمت کے ہوتے ہوئے تم پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ تم لوگوں کے ساتھ نیکی کرو،اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار رہو اور تنگی اور سختی کے عالم میں یہ حق ہے کہ اس کی تقدیر پر راضی رہو اطاعت خداوندی میں مشغول ہوجاؤ تا کہ سعادت دارین پاؤ۔پرہیز گاری سے دین محفوظ ہوجاتا ہے اور اللہ کی تقدیر پر راضی ہونے سے حسن یقین کا پتہ چلتا ہے ۔بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اپنے بچاؤ کے لئے تدبیر اختیار کرتے ہیں مگر تقدیر کا وہی حیلہ ان کو منہ کے بل گرادیتا ہے ۔ اطاعت خداوندی میں نفع کے خزانے پوشیدہ ہیں .خوش نصیب ہے وہ آنکھ جس نے اطاعت خداوندی میں نیند کو خیر آباد کہا۔ جس کام میں تم اطاعت خداوندی کرتے ہو اس میں کوئی شخص اگر ناخوش ہے تو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو اور اطاعت خداوندی کرنے کی نسبت کوئی عذر بیان نہ کرو بلکہ یہ کام تمہاری بزرگی اور فضیلت کے لئے کافی ہے۔ اطاعت خداوندی نہایت مضبوط قلعہ،علم ایک بڑاخزانہ ہے۔

اخلاق اعلیٰ ترین درجہ اور کامیابی ہے جب کہ نافرمانی بڑے درجے کی عاجزی ہے ۔ انسان کی قدرت جب کسی چیز پر کامل ہوتی ہے ،تو اس کی خواہش کم ہوجاتی ہے اور جب وہ تنگدست ہوتا ہے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرے اور جو کچھ اس کے پاس ہے اسے راہِ خدا میں خرچ کردے۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیں کی گئی اس لئے کہ یہ ہم اہل بیت کی وصیت ہے ۔حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن سے فرمایا :بچہ کا دل خالی زمین کے مانند ہے جو بھی اسے تعلیم دی جائے گی وہ سیکھے گا لہذا میں نے تمھاری تربیت میں بھت ھی مبادرت سے کام لیا قبل اس کے کہ تمھارا دل سخت اور فکر مشغول ھو جائے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :خیر و عافیت کے10 جزء ھیں ان میں سے9 جز ء خاموش رھنے میں ھیں سوائے ذکر خدا کے اورایک جز بیوقوفوں کی مجلس میں بیٹھنے سے پرہیز کرنے میں ہے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے۔

ہیں  :جو شخص اپنے کو لوگوں کی پیشوائی و رہبری کے لئے معین کرے اسکے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو تعلیم دینے سے پہلے خود تعلیم حاصل کرے ، اور آداب الٰہی کی رعایت کرتے ہوئے لوگوں کو دعوت دے ،قبل اس کے کہ زبان سے دعوت دے ( یعنی سیرت ایسی ہو کہ زبان سے دعوت دینے کی ضرورت نہ پڑے)۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:ہر وہ شخص جسکی تمام کوشش پیٹ بھرنے کے لئے ہے اسکی قیمت اتنی ہی ہے جو اس کے پیٹ سے خارج ہوتی    ہے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : آگاہ ہو جاو ! وہ علم کہ جس میں فہم نہ ہو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے ، جان لو کہ تلاوت بغیر تدبر کے کے سود بخش نہیں ہے ، آگاہ ہو جاؤکہ وہ عبادت جس میں فہیم نہ ہو اسمیں کوئی خیر نہی ہے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتےہے :وہ شخص جو جہاد کرے اورجام شہادت نوش کرے اس شخص سے بلند مقام نہیں رکھتا جو گناہ پر قدرت رکھتا ہو لیکن اپنے دامن کو گناہ سے آلودہ نہ کرے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Alert: Content selection is disabled!!