Urdu Corner

شر مگاہ زیر ناف بال کہاں تک کا ٹیں

زیر ِ ناف  کے  جو بالوں کو صاف کر نا ہے تو کہاں سے کہاں تک یعنی کتنی دور تک صاف کرنے چاہیے اور کتنی دور تک صاف کر نا ضروری ہے۔ حدیث شریف میں آ یا ہے ترمذی شریف کی روایت ہے  کہ آپ ﷺ نے خود ارشاد فر ما یا ہے ان سے پہلےاللہ خود فر ما تے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکی کو بہت پسند فر ماتے ہیں اس سے پہلے ارشاد فر ما یا ہے کہ اللہ پاک ہے اور پاکی کو بہت زیادہ پسند فر ما تے ہیں اسلام کی نظر میں ہر موضوع میں ہر  چیز میں اسلام نے رہنمائی فر ما ئی ہے اور پاکی اور طہارت کے معاملے میں اسلام بہت ہی مقدم اور بہت ہی آ گے بڑ ھا ہوا ہے ۔

اسلام نے پاکی کو بہت ہی زیادہ مقام دے کے رکھا ہے اور حقیقت میں وہ چیزیں پاکی ایک ایسی چیز ہے کہ تمام عبادات کا دارومدار پاکی  پر ہے اور طہارت پر ہے۔ تو یہاں پر اتنا کہوں گا کہ صفائی کے  لیے یعنی جو مقدار ہے صفائی کر نے کی زیر ناف کے بالوں کو صاف کرنے کا وقت جو وہ چالیس دن ہے ۔ حضور پاک ﷺ نے متعین کیا ہے کہ چالیس دن کے اندر اندر زیرِ ناف کے بال کاٹ لیا کرو اس سے اگر پار کر کر کاٹے تو گناہ گار ہوگا اب جو صاف کر نا ہے کہاں سے کہاں تک صاف کر نا ہے ناف کے نیچے سے جتنا بال ہے اس کو صاف کر نا ہے اور شرم گاہ کے دائیں بائیں جو بال ہیں ان کو صاف کر نا ہے اور اسی طرح کھسہ تین ہیں اس کے اندر جو بال ہیں ان بالوں کو بھی صاف کر نا ہے۔

  اور اسی طرح جو شرم گاہ کے دائیں بائیں بال ہیں ان کو بھی صاف کر نا آ پ کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن بہت سے لوگ سوال کر تے ہیں کہ کیا جو پیچھے کا راستہ ہے اس میں بہت زیادہ بال نکل آ تے ہیں کہ جو آپ کا پیچھے کا راستہ ہے جس سے غلاظت نکلتی ہے اس جگہ میں جو بال آتے ہیں ان بالوں کو صاف کر نا ضروری ہے اگر وہ صاف کر دیں تو ٹھیک ہے اگر نہیں کرتے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس جگہ بال کو صاف کر نا ضروری نہیں ہے اور اگر آپ صاف کر نا چاہتے ہیں تو صفائی بہت ہی اچھی چیز ہے ۔ صاف کر دیں ۔ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ نا پاک چیز ہوتی ہے پخانہ نکلتا ہے ہو سکتا ہے وہ اس جگہ لگ جائے اور صفائی نہ کر پائے صحیح سے تو نماز میں خلل ہو جائے گا۔ اسی لیے اگر  وہ جگہ بھی صاف کر نا چاہتے ہیں تو صاف کر سکتے ہیں خلاصہ ہے کہ زیرِ ناف کے بالوں کو صاف کر نے کی مقدار چالیس دن ہے

Back to top button
error: Alert: Content selection is disabled!!